Tuesday, March 22, 2016

16۔گلایسیرال کیسے بنائے: سیپونیفیکیشن کا طریقہ:

سیپونیفیکیشن نام ہے ای کیمیائی تعامل کا جس میں ایک اساس(الکلی ، سوڈیم ہائڑرکسائڑ یا پوٹیشم ہائڑرکسائڑ ) کو تیل سے ملایا جاتا ہے تاکہ صابن  اور گلايسیرال بنیں۔ اس عمل کیلئے ناریل کا تیل، زیتون کا تیل، کیسٹر آیل، پالم ایل اور بہت سے دوسرے تیل استعمال ہوتے ہیں۔ جانوروں کی چربی بھی استعمال ہوسکتی ہے ، مثلا ، گاے کی چربی، بھینس کی چربی، بھیڈ کی چربی وغیرہ۔ الکلی کی موجودکی میں 115 فارنہائٹ درجہ حرارت پر تیل گلایسیرال اور صابن میں تبدیل ہوتا ہے۔ در اصل ہوتا یہ ہے کہ چربی ٹرائگلائسیرائڈ وں کی بنی ہوتی ہے اور تیل بھی ٹرایگلائسیرائڈوں کے بنے ہوتے ہیں اور الکلی کی موجودگی میں  ٹرائگلايسیرائڈ اپنے حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، یعنی گلایسیرال  اور چربی ترشوں میں۔یہ چربی ترشے الکلی سے مل کر پابی اور نمک بناتے ہیں۔ جو نمک اس صورت میں بنتا ہے اسسے صابن کہتے ہے ۔ الکلی گلایسیرال اور چربی ترشوں کے دومیان جوڑون کو توڑتی ہے اور ہر ایک ٹرائگلایسیرايڈ  کوتین چربی ترشوں کے سالموں اور ایک کلایسیرال کے سالمے میں توڑتی ہے اور پھر اس الکلی کا ہائڑراکسل گروہ ترشہ کے ایچ پازیٹیو آین سے مل کر پانی بناتا ہے اور الکلی کی دھات ترشوں سے مل کر صابن بناتی ہے۔ سوڈیم کی صابن سخت ہوتی ہے اور پوٹیشیم کی صابن ملایم ہوتی ہے، جو کہ سوڈیم کلورائڑ ملانے پر سخت ہوجاتی ہے۔ گلیسیرال پیچھے رہ جاتا ہے۔
مکمل طریقہ:
1۔ 1600 ملی لیٹر تیل ایک برتن میں لیا جاتا ہے۔
2۔ اس میں 800 ملی لیٹر پانی ملایا جاتا ہے ، جس میں 200 گرام لے پہلے سے ملی ہو۔
3۔ان دو چیزوں کے آمیزہ کو 115 ڈگری فارنہایٹ پر رکھا جاتا ہے۔ مزکورہ برتن کو  حرارت دینے اور پھر اس میں ایک تھرمامیٹر رکھنے سے یہ کیا جاتا ہے۔
4۔ آمیزہ کو لگاتار 20-25 منٹ تک حرکت دی جاتی ہے۔ تھوڑا سا عام نمک اس میں ڈالا جاتا ہے تاکہ صابن بن کر سطح پر رہ جائے اور آسانی سے حاصل ہو۔اس عمل سے صابن بنتا ہے۔

5۔ مادے کو کجھ دیر رکھنے پر گلیسیرال کی ایک لییر ،جو ٹرانسلوسنٹ ہوتی ہے ، بنتی ہے۔ اس کے نیجے باقی ماندہ سوڈیم ہائڑراکسائڑ  اور اس کے فاسفیٹ وغیرہ ہوتے ہے۔ یہ لیییر زرد ہوتی ہے۔ اکر اس میں ایچ سی ایل یا پھاسپھورک ایسڈ  ڈالا 

جائے تو باقی ماندہ الکلی کا اثر زائل ہوتا ہے اور وہ نمک بناتی ہے ،جو کہ سطح پر فلوٹ ہوتے ہیں۔ 

Saturday, March 12, 2016

نائٹرک ایسڈ بنانے کا طریقہ::



نائٹرک ایسڑایک طاقتور تیزاب ہے اور سلفیورک ا یسڑ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سےطاقور تیزاب ہے۔
بنانے کا طریقے:
1۔ سوڈیم نایٹریٹ یا پوٹیشیم نائٹریٹ کو جب سلفیورک ایسڑ کے ساتھ جب ملایا جاتا ہے تو نائٹرک ایسڑبنتا ہے۔اس میں گرمی کی ضرورت پرتی ہے اور ڈسٹیلیشن کی بھی۔   
ایچ ٹو ایس او فور+این اےایناو تھری----------ایچ این او تھری+این اے ایس او فور
2۔ حائڑروکلورک ایسڈ بھی استعمال  کیا جا سکتا ہے لیکن پھر کاپر کو نائٹریٹ نمک میں ایچ سی ایل کے ساتھ ملانا ہوگا، جس سے این او ٹو بنتا ہے۔۔ اس  این او ٹو کو پانی سے ملانے پر نائئٹرک ایسڈ بنتا ہیں۔ پانی یا حائڑروجن پرآکسایڑ سے ملانے کے دو طریقے ہے:
(الف) چار  بیکر لیے جائے ۔ ایک میں نائئٹریٹ ڈالا جائے، دوسرے مینں ایچ سی ایل اور کاپر اور تیسرا خالی رکھا جاے۔ خالی بیکر میں دوسرا بیکر رکھا جائے اور اس کے اوپر ایک اور بیکر رکھا جائے، تاکہ جو بھی این او ٹو بن جائے وہ ماحول میں نہ نکل جائے۔



اس کے بعد باہر والے بیکر میں نائٹرک ایسڑ برآمد ہوتا ہے۔
()            دوسرا طریقہ: یہ ہے کہ  دو ہی بیکر استعمال کئے جائے اور دونوں کو پائپ سے ملایا جائے۔ یہ پائپ این او ٹو کو دوسرے بیکر میں یے جاتا ہے، جہاں وہ پانی یا ہائڑروجن پرآکسایڑ سے مل کر نائٹرک ایسڑ بناتا ہے۔ اس بیکر میں تھوڑی سی برف ڈالی جاتی ہے تاکہ این او ٹو ٹھیک سے پانی کے ساتذ مل جائے۔



۔
نائٹریٹنگ آمیزہ:

سلفیورک ایسڑ اور نایٹرک ایسڑ کا جو آمیزہ ہوتا ہے اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ لگ بگ کسی بھی مادے میں نائٹریٹ گروہ  داخل کرتا ہے۔ اس لئے اس کو نایٹریٹنگ آمیزہ یا مکسچر کہتے ہے۔ مثلا، سیلیلوز کو یہ سیلیلوز نائٹریٹ پناتا ہے اور گلیسرول کو گلیسیرول نایٹریٹ بناتا ہے۔ اسی طرح ہیکزاماین کو ہیکزامین نائٹریٹ بناتا ہے۔

نائٹرک ایسڈ کی لئے ٹیسٹ


جب کاپر یعنی تانبہ اس میں ڈالا جاتا ہے تو وہ گھل جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ نایٹریٹ کی مرجودگی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسرا ٹیسٹ ؛ ایلومونیم کو بھی نائٹرک ایسڈ حل کرتا ہے لیکن کاپر کو صرف نائٹرک ایسڈ ہی حل کرسکتا ہے، جب کہ ایلومونیم کو دوسرے کیمیائی مرکبات بھی جل کرتے ہے:مسلآ؛ سوڈیم ہائڑروکسایڈ۔
نائٹرک ایسڈ بنانے کا دوسرا طریقہ:
اصول
ہوا میں  الیکٹرک آرک چلانے پر نائٹرک آکسایڈ بنتا ہے ' جس کو پانی کے ساتھ ملانے پر نائٹرک ایسڈ بنتا ہے۔ الیکٹرک آرک پیدا کرنے کے لئے 17000 وولٹ  کی ضرورت پڑتی ہے، جو ایک ٹرانسفارمر کے ذریعے  سے حاصل کیاجا سکتا ہے۔ مطلوبہ ٹرانسفارمر امیذان ڈاٹ کام پر ملتا ہے۔  بجلی کو خاصی مدت چلانے پر نائٹرک ایسڈ کی ایک خاصی مقدار بنتی ہے، جس کو سوڈیم کاربونیٹ سے ملایا جا تا ہے ٹیسٹ کرنے کے لئے۔ ملانے پر مایع کے بلبلے ابلنے لکتے ہے ، جو کیمیائی تعامل کا ثبوت فراہم کرتے ہے اور یہ ثبوت بھی کہ محلل میں نائٹرک ایسد موجود ہے۔
 
مکمل طریقہ:
1۔ دو تاورں سے ٹرانسفارمر کو  ایک بوطل سے ملاتا جاتا ہے۔
2۔ ان تاورں کو بوطل میں ملاتا نہیں جاتا بلکہ قریب رکھا جاتا ہے تاکہ ارک بن سکے۔


3۔ بجلی کی سپلائی کو کھول دتا جاتا ہے اور بوطل مین پانی بھر کر بوطل کا ڈھکن بند کیا جاتا ہے۔ کچھ گھنٹوں کے بعد بوطل برون رنک کی ہوجاتی ہے [ہلکا براوں] جو اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ این او ٹو بن رہا ہے۔ مذید رکھنے پر نائٹرک ایسڈ بنتا ہے۔
ٹیسٹ:

کیلشم کاربونیٹ ڈالنے پر  نآئٹرک ایسڈ ابل سا جاتا ہے۔ 

پوٹیشم ہائڈراکسایڈ یا لے کہاں سے جاصل کریں ؟



اصول:
پوٹیشم چونکہ جاندارون کے بنیادی خلیوں میں ہوتا ہے، اس لئے یہ لگ بگ ہر چگہ موجود ہے، خصوصا  جانداری مادے (آرگینک میٹر)میں ، لیکن عام طور پر یہ کچھ چیزوں مین دوسری چیزوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ مثلا، کیلے کے چھلکے میں پوٹیشم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ ان چیزرں کو جلانے پر جو راکھ بچ جاتی ہے اس میں پوٹیشم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ اس کو پانی سے ملانے پر پوٹیشم ہائڈراکسایڈ ملتا ہے۔ سلیس الفاظ میں پوٹیشم ان چیزوں سے حاصل ہوتا ہے:
1۔ مٹی
2۔ کیلے کے چھلکے
3۔ دوسرے جانداری مادہ سے۔
4۔ لکزی کی راکھ سے۔
5۔ کسی بھی چیز کی راکھ سے۔
6۔ صابن سے۔
مکمل طریقہ:
لکڑی یا کیلوں کو جلایا جاتا ہے تاکہ ان کی راکھ تیار ہوجاے۔
2۔ اس تیار کردہ راکھ کو ایک بالٹی میں رکھا جاتا ہے۔
3۔ بالٹی میں پانی بھر دیا جاتا ہے اور پھر پانی کو راکھ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔
۔4۔ دوسری بالٹی اے دہانے پر ایک کپڑا باندھا جاتا ہے تاکہ اے راکھ اور پانی کے آمیزے کو فلٹر کیا جائے۔
5۔ مزکورہ آمیزہ کو فلٹر کیا جاتا ہے اور فلٹریٹ کو دوسری بالٹی میں جمع کیا جاتا ہے۔  جو ٹھوس مادہ فلٹریشن کے بعد بچ جاتا ہے اسسے پھینک دیا جاتا ہے۔
6۔ فلٹریٹ کو ابالا جاتا ہے اور ڈیکینٹیشن کے ذریعے سے صاف کیا جاتا ہے۔
7۔ اس کے بعد پھر ابالا جاتا ہے جب تک ٹھوس مادہ ہاتھ میں نہ آجائے۔ اس کے دوران ایک خاص نوعیت کا مادہ بنتا ہے جو اس وقت بھی بنتا ہے جب لکڑی کی راکھ اور خشک کردہ پیشاب کو ابالا جاتا ہے تاکہ اس سے نائٹریٹ نکالا جائے۔ دیکھئے باب مرکوم بہ نکتہ ---۔