سیپونیفیکیشن نام ہے ای کیمیائی تعامل کا جس میں ایک
اساس(الکلی ، سوڈیم ہائڑرکسائڑ یا پوٹیشم ہائڑرکسائڑ ) کو تیل سے ملایا جاتا ہے
تاکہ صابن اور گلايسیرال
بنیں۔ اس عمل کیلئے ناریل کا تیل، زیتون کا تیل، کیسٹر آیل، پالم ایل اور بہت سے
دوسرے تیل استعمال ہوتے ہیں۔ جانوروں کی چربی بھی استعمال ہوسکتی ہے ، مثلا ، گاے
کی چربی، بھینس کی چربی، بھیڈ کی چربی وغیرہ۔ الکلی کی موجودکی میں 115 فارنہائٹ
درجہ حرارت پر تیل گلایسیرال اور صابن میں تبدیل ہوتا ہے۔ در اصل ہوتا یہ ہے کہ
چربی ٹرائگلائسیرائڈ وں کی بنی ہوتی ہے اور
تیل بھی ٹرایگلائسیرائڈوں کے بنے ہوتے ہیں اور الکلی کی موجودگی میں ٹرائگلايسیرائڈ اپنے حصوں میں تقسیم ہوتا ہے،
یعنی گلایسیرال اور چربی ترشوں میں۔یہ
چربی ترشے الکلی سے مل کر پابی اور نمک بناتے
ہیں۔ جو نمک اس صورت میں بنتا ہے اسسے صابن کہتے ہے ۔ الکلی گلایسیرال اور چربی
ترشوں کے دومیان جوڑون کو توڑتی ہے اور ہر ایک ٹرائگلایسیرايڈ کوتین چربی ترشوں کے سالموں اور ایک کلایسیرال
کے سالمے میں توڑتی ہے اور پھر اس الکلی کا ہائڑراکسل
گروہ ترشہ کے ایچ
پازیٹیو آین سے مل کر پانی بناتا ہے اور الکلی
کی دھات ترشوں سے مل کر صابن بناتی ہے۔ سوڈیم
کی صابن سخت ہوتی ہے اور پوٹیشیم کی صابن
ملایم ہوتی ہے، جو کہ سوڈیم کلورائڑ ملانے پر سخت ہوجاتی ہے۔ گلیسیرال پیچھے رہ
جاتا ہے۔
مکمل طریقہ:
1۔ 1600 ملی لیٹر تیل
ایک برتن میں لیا جاتا ہے۔
2۔ اس میں 800 ملی لیٹر پانی ملایا جاتا ہے ، جس میں 200
گرام لے پہلے سے ملی ہو۔
3۔ان دو چیزوں کے آمیزہ کو 115 ڈگری فارنہایٹ پر رکھا جاتا ہے۔ مزکورہ برتن کو حرارت دینے اور پھر اس میں ایک تھرمامیٹر رکھنے سے یہ کیا جاتا ہے۔
4۔ آمیزہ کو لگاتار 20-25 منٹ تک حرکت دی جاتی ہے۔ تھوڑا سا
عام نمک اس میں ڈالا جاتا ہے تاکہ صابن بن کر
سطح پر رہ جائے اور آسانی سے حاصل ہو۔اس عمل سے صابن بنتا ہے۔
5۔ مادے کو کجھ دیر رکھنے پر گلیسیرال کی ایک لییر ،جو ٹرانسلوسنٹ ہوتی ہے ، بنتی ہے۔ اس کے نیجے باقی
ماندہ سوڈیم ہائڑراکسائڑ اور اس کے فاسفیٹ
وغیرہ ہوتے ہے۔ یہ لیییر زرد
ہوتی ہے۔ اکر اس میں ایچ سی ایل یا پھاسپھورک ایسڈ ڈالا
جائے تو باقی ماندہ الکلی کا اثر زائل
ہوتا ہے اور وہ نمک بناتی ہے ،جو کہ سطح پر فلوٹ ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment