اصول:
پوٹیشم
چونکہ جاندارون کے بنیادی خلیوں میں ہوتا ہے، اس لئے یہ لگ بگ ہر چگہ موجود ہے،
خصوصا جانداری مادے (آرگینک
میٹر)میں ، لیکن عام طور پر یہ کچھ چیزوں مین دوسری چیزوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتا
ہے۔ مثلا، کیلے کے چھلکے میں پوٹیشم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ ان چیزرں کو
جلانے پر جو راکھ بچ جاتی ہے اس میں پوٹیشم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ اس کو پانی سے
ملانے پر پوٹیشم ہائڈراکسایڈ ملتا ہے۔ سلیس الفاظ میں پوٹیشم ان چیزوں سے حاصل
ہوتا ہے:
1۔ مٹی
2۔ کیلے کے چھلکے
3۔ دوسرے جانداری مادہ سے۔
4۔ لکزی کی راکھ سے۔
5۔ کسی بھی چیز کی راکھ سے۔
6۔ صابن سے۔
مکمل طریقہ:
1۔ لکڑی یا کیلوں کو جلایا جاتا ہے
تاکہ ان کی راکھ تیار ہوجاے۔
2۔
اس تیار کردہ راکھ کو ایک بالٹی
میں رکھا جاتا ہے۔
3۔ بالٹی میں پانی بھر دیا جاتا ہے اور پھر پانی کو راکھ کے
ساتھ ملایا جاتا ہے۔
۔4۔ دوسری بالٹی اے دہانے پر ایک کپڑا باندھا جاتا ہے تاکہ
اے راکھ اور پانی کے آمیزے کو فلٹر کیا جائے۔
5۔ مزکورہ آمیزہ کو فلٹر کیا جاتا ہے اور فلٹریٹ
کو دوسری بالٹی میں جمع کیا جاتا ہے۔ جو
ٹھوس مادہ فلٹریشن کے بعد بچ جاتا ہے اسسے پھینک دیا جاتا ہے۔
6۔ فلٹریٹ کو ابالا جاتا ہے اور ڈیکینٹیشن کے ذریعے
سے صاف کیا جاتا ہے۔
7۔ اس کے بعد پھر ابالا جاتا ہے جب تک ٹھوس مادہ ہاتھ میں
نہ آجائے۔ اس کے دوران ایک خاص نوعیت کا مادہ بنتا ہے جو اس وقت بھی بنتا
ہے جب لکڑی کی راکھ اور خشک کردہ پیشاب کو ابالا جاتا ہے تاکہ اس سے نائٹریٹ نکالا
جائے۔ دیکھئے باب مرکوم بہ نکتہ ---۔
No comments:
Post a Comment